🌸 خاموش دعائیں — ایک ماں، ایک بیٹا اور ایک بہو کی کہانی
![]() |
| ایک ماں، ایک بیٹا اور ایک بہو کی کہانی |
🟢 تمہید
🏡 ماں کا سایہ
اماں جان، ایک سادہ سی، نمازی، صابر عورت تھیں جن کے شوہر کا سایہ برسوں پہلے اُٹھ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے زید کو نہایت محنت سے پڑھایا، پروان چڑھایا، اور پھر ایک دن اُس کی شادی علیزہ سے کر دی۔
زید خاموش رہتا۔ ایک طرف ماں کا احترام، دوسری طرف بیوی کا رشتہ۔ وہ بیچ میں پسنے لگا۔
💔 خاموش سسکیاں
👶 آئینے کی طرح سچ بولتا بچہ
ایک دن اماں نے اُس سے کہااگر کبھی میں تمہارے ابو کے لیے بوجھ بن گئی تو…؟حمزہ نے مسکرا کر کہادادی! میں کسی کو آپ سے دور نہیں جانے دوں گا۔یہ الفاظ علیزہ نے سُن لیے… اور اُس کی آنکھوں میں پہلی بار نمی اُتری۔
💡 دل کا دروازہ
زید نے دیکھا کہ علیزہ کچھ بدلی بدلی سی لگتی ہے۔ ایک رات وہ کہنے لگی۔ ماں کا رشتہ عجیب ہوتا ہے۔ کل تک مجھے لگتا تھا وہ مجھ پر حکومت کرنا چاہتی ہیں، آج لگتا ہے وہ تو بس دعاؤں کا خزانہ ہیں۔
زید نے صرف اتنا کہامحبت کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے، مگر جب سمجھ آ جائے تو سب بدل جاتا ہے۔
اسی رات علیزہ نے پہلی بار اماں کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
🌼 بدلا ہوا موسم
اب صبح کی چائے اماں کے ساتھ، دوپہر کی باتیں اماں کے ساتھ، اور رات کا کھانا اُن کی پسند سے ہونے لگا۔
علیزہ نے اماں کے لیے خود دوا لانی شروع کی، ان کے کپڑے دھونا، ان کے لیے قرآن سنانا — سب کچھ اُس کے دل سے آنے لگا۔اماں خوش تھیں دل ہی دل میں کہتی تھیں۔
اے میرے رب، تُو نے میری دعائیں سن لیں۔
🏆 ایک ماں کی جیت
ایک دن زید کو دفتر سے بڑی پروموشن ملی۔ وہ خوشی خوشی گھر آیا اور اماں کو گلے لگا لیا۔
اماں نے ہاتھ اُٹھائے، اور آنکھوں میں خوشی کے آنسو لیے کہا بیٹا، یہ تمہارے صبر اور ماں کی خدمت کا انعام ہے۔ اور علیزہ… تُو نے میرے دل کو جیت لیا ہے۔علیزہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
🕊️ خاموش دعاؤں کا صلہ
کچھ برسوں بعد اماں جان اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کے چہرے پر سکون تھا، جیسے کوئی اپنی دعا پوری ہونے کے بعد سو گیا ہو۔
علیزہ اُن کے قدموں میں بیٹھ کر کہہ رہی تھیں امی جی… جو کچھ بھی میں نے سیکھا، وہ آپ سے سیکھا۔ اگر کبھی
تکلیف دی ہو تو معاف کر دیجیے گا۔
زید نے علیزہ کا ہاتھ تھاما اور کہاہماری زندگی کی سب س بڑی کامیابی… ماں کی مسکراہٹ تھی۔

